خود پسندی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - غرور، خود نگری، تکبر، اپنے ہی کو پسند کرنا یا اہمیت دینا۔ "فرد نام ہے . خود پسندی، خود بینی، خود اشتعال . کا یہ ساری خوصوصیات بیک وقت ہر فرد میں موجود ہوتی ہیں جن کا وہ اسیر ہوتا ہے۔"      ( ١٩٨٢ء، برش قلم، ١٣٣ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ لفظ 'خود' کے ساتھ فارسی ہی سے ماخوذ اسم 'پسند' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب 'خود پسندی' بنا۔ ١٦٨٨ء کو "دیوان معظم" کے قلمی نسخہ میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - غرور، خود نگری، تکبر، اپنے ہی کو پسند کرنا یا اہمیت دینا۔ "فرد نام ہے . خود پسندی، خود بینی، خود اشتعال . کا یہ ساری خوصوصیات بیک وقت ہر فرد میں موجود ہوتی ہیں جن کا وہ اسیر ہوتا ہے۔"      ( ١٩٨٢ء، برش قلم، ١٣٣ )

جنس: مؤنث